by Irmglobe_1955 Irmglobe_1955

عورتوں کے لئے چہرے، دونوں ہتھیلیوں اور دونوں پاؤں کے تلوؤں کے سوا سارا بدن ستر عورت ہے۔ یہ ستر نماز کے لئے ہے اگرچہ عورت تنہا اندھیری کوٹھری میں ہو، سوائے ان پانچ اعضاء کے باقی تمام بدن چھپانا پھر بھی فرض ہے ان میں سے کوئی عضو اگر چوتھائی حصہ کھل گیا اور فوراً نہیں چھپایا تو نماز نہ ہوگی۔          (بہار شریعت:حصہ سوم)

اب مسلمان مائیں، بہنیں اور ان کے سر پرست اس بات پر غور کریں کہ نماز کے دوران اندھیری کوٹھری میں بھی تنہا عورت کو سر کے بال، گردن، کلائیاں و دیگر اعضاء کا چھپانا فرض ہے جب کہ وہاں کوئی نامحرم نہیں تو جو عورتیں نامحرموں کے درمیان ننگے سر، عریاں سینے اور برہنہ جسم کے ساتھ گھومیں وہ کس قدر رب تعالیٰ کے قہر و غضب کی مستحق ہوں گی۔ اسلامی حکم ہے کہ عورت محرم مرد کے سامنے مذکورہ پانچ اعضاء کے سوا باقی تمام بدن کو چھپائے رکھے کہ یہ ستر پوشی لازمی ہے۔

ایک مرتبہ حضور  ﷺ کی سالی حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے باریک لباس پہن رکھا تھا یہی لباس پہنے جب وہ بارگاہ رسالت ماب  ﷺ میں حاضر ہوئیں تو حضور  ﷺ نے فوراً نظر پھیر لی اور فرمایا “اے اسماء جب عورت سن بلوغت کو پہنچ جائے تو درست نہیں کہ اس کے جسم میں سے کچھ نظر آئے بجز اس کے اور آپ ﷺ نے اپنے چہرے اور ہتھیلیوں کی طرف اشارہ فرمایا۔”

       (مشکوٰۃالمصا بیح:رقم الحدیث:4175)

ضروری ہے کہ عورت لباس کے معاملے میں بہت محتاط رہے ایسا لباس ہر گز نہ پہنے کہ بدن کے اعضاء نمایاں ہوں۔ باریک کپڑے ہر گز نہ پہنیں اگر پہنیں تو ساتھ شمیز استعمال کریں تاکہ بدن نہ جھلکے اس کے علاوہ باریک دوپٹہ نہ لیں جس سے سر کے بال یا بالوں کی سیاہی، گردن یا کان نظر آتے ہوں۔

 پردہ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں مردوں کو حکم فرمایا۔

 قل للمومنین یغضوا من ابصارھم و یحفظوا فروجھم ذلک ازکی لھم ان اللّٰہ خبیر بما یصنعون o  

 (النور 30:24)

اے نبی کریم آپ حکم فرما دیجئے مومن مردوں کو وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ یہ طریقہ ان کے لئے بہت پاکیزہ ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ خوب آگاہ ہے ان کاموں پر جو وہ کیا کرتے ہیں۔”

 اللہ تعالیٰ نے پردے کے بارے میں عورتوں کو ارشاد فرمایا۔

و قل للمومنت یغضضن من ابصار ھن و یحفظن فروجھن ولا یبدین زینتھن الا ما ظھر منھا ولیضربن بخمرھن علی جیوبھن و لا یبدین زینتھن الا لبعولتھن او ابا ئھن او اباء بعولتھن او ابناء بعولتھن او اخوانھن او بنی اخوانھن او بنی اخوٰتھن او نسائھن او ما ملکت ایمانھن او التٰبعین غیر اولی الاربۃ من الرجال او الطفل الذین لم یظھروا علی عورات النساء ولا یضربن بارجلھن لیعلم ما یخفین من زینتھن و توبوا الی اللہ جمیعا ایہ المؤمنون لعلکم تفلحون (النور 31:24)

اور آپ مؤمن عورتوں سے فرمادیں کہ وہ (بھی) اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش و زیبائش کو ظاہر نہ کیا کریں سوائے (اسی حصہ)کے جو اس میں سے خود ظاہر ہوتا ہواور وہ اپنے سروں پو اوڑھے ہوئے دو پٹے (اور چادریں)اپنے گریبانوں اور سینوں پر (بھی) ڈالے رہا کریں اور وہ اپنے بناؤ سنگھار کو (کسی پر)ظاہر نہ کیاکریں سوائے اپنے شوہروں کے یا اپنے باپ دادا یا اپنے شوہروں کے باپ دادا کے یا اپنے بیٹوں کے یا اپنے شوہروں کے بیٹوں کے یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھتیجوں یا اپنے بھانجوں کے یا اپنی(ہم مذہب،مسلمان) عورتوں یا اپنی مملوکہ باندیں کے یا ان مردوں میں سے وہ خدمت گار جو خواہش و شہوت سے خالی ہوں یا وہ بچے جو (کمسنی کے باعث ابھی)عورتوں کی پردہ والی چیزوں سے آگاہ نہیں ہوئے (یہ بھی مستثنی ہیں)اور نہ (چلتے ہوئے) اپنے پاؤں (زمین پر اس طرح)ماراکریں کہ (پیروں کی جھنکارسے)ان کا وہ سنگھار معلوم ہو جائے جسے وہ (حکم شریعت سے)پوشیدہ کئے ہوئے ہیں،اور تم سب کے سب اللہ کے حضور توبہ کرو اے مومنو!تاکہ تم (ان احکام پر عمل پیرا ہو کر)فلاح پا جاؤ۔

مندرجہ بالا آیت کریمہ سے مندرجہ ذیل احکامات معلوم ہوئے۔

۱) مومن مرد اور مومن عورتیں اپنی نظریں نیچی رکھیں یعنی مرد عورتوں کو نہ دیکھیں اور عورتیں نامحرم مردوں کو نہ دیکھیں۔

شریعت اسلامیہ انسانوں کو صرف گناہوں سے نہیں روکتی بلکہ ان کے ارتکاب پر سزا بھی دیتی ہے اور ان تمام وسائل اور ذرائع پر پابندی عائد کرتی ہے جو انہیں گناہوں کی طرف لے جاتے ہیں۔ اگر گناہوں کی طرف لے جانے والا راستہ ہی بند کردیا جائے تو گناہ کرنا آسان نہ ہوگا۔

بدکاری کا سب سے خطرناک راستہ نظربازی ہے اس لئے اس کو سب سے پہلے بند کیا جارہا ہے۔ مردوں کو بھی یہی حکم دیا جارہا ہے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔ جب نگاہ ہی نامحرم کی طرف نہ اٹھے گی تو دل میں اس کی طرف کشش پیدا نہ ہوگی، جب کشش پیدا نہ ہوگی تو بدفعلی نہ ہوگی۔ حضرت عبد اللہ بن مسعو د ؓ بیا ن کر تے ہیں کہ حضور نبی کریم  ﷺ نے فرمایا: نظر،شیطا ن کے زہر آلود تیر وں میں سے ایک تیر ہے۔ (مجمع الزوا ئد:  ج  8/  ص: 63)

۲) مرد اور عورتوں کو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے کا کہا گیا ہے۔

 زنا کاری کے علاوہ وہ ناجائز طریقے جس سے جذبات میں ہیجان پیدا ہو مثلاً ننگی تصویریں دیکھنا، عاشقانہ افسانے پڑھنا، ٹی وی، وی سی آر پر بے حیائی کے مناظر دیکھنا سب حرام ہے۔

۳) عورتیں اپنا بناؤ سنگھار نامحرموں پر ظاہر نہ ہونے دیں۔ اس حکم میں ہر وہ چیز داخل ہے جو نامحرموں میں رغبت پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔

اس لئے حضور نبی کریم  ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ہر نظر بد زا نیہ ہے جو عورت خوشبو لگا کرلوگوں کے پاس سے گزرتی ہے(تاکہ اسکی مہک ان تک پہنچے) وہ زانیہ ہے۔

(جامع الترمذی:ابواب الاستیذان و الادب:باب ما جاء فی کراھیۃخروج المرأۃ متعطرۃ)

Share This!